صفحہ اول / اہم خبریں / انسانی جسم میں دو دماغ پائے جاتے ہیں، سائنس دانوں کا انکشاف

انسانی جسم میں دو دماغ پائے جاتے ہیں، سائنس دانوں کا انکشاف

بیڈفورڈ: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی جسم میں دو دماغ پائے جاتے ہیں اور دوسرا دماغ معدے اور آنتوں کے نزدیک موجود ہوتا ہے جو نظام ہضم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں معدے اور آنتوں کے نزدیک ایک اور دماغ پایا جاتا ہے یہ دماغ برقیاتی لہروں کو آنتوں کی حرکت peristaltic movement سے ہم آہنگ کرتے ہوئے غذائی نالی کو نچلی جانب حرکت دیتا ہے جس سے جسم کے فضلے کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔
اگرچہ یہ باقاعدہ دماغ نہیں لیکن ہماری آنتوں میں بھی دماغی خلیات یعنی نیورونز کا ایک بنڈل پایا جاتا ہے جسے ماہرین نے آنتوں کا چھوٹا دماغ کہا ہے۔فلندر یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے مشاہدہ کیا کہ انسانی جسم میں مرکزی اعصابی نظام (سینٹرل نروس سسٹم یا CNS) کے علاوہ نیورونز پر مشتمل ایک اور نظام بھی کام کررہا ہے جسے آنتوں کا اعصابی نظام یا (ENS) کہا جاتا ہے۔ یہ اعصابی نظام مرکزی اعصابی نظام سے علیحدہ ہوتا ہے اور آزادانہ اور خود مختار نظام کے تحت کام کرتا ہے اس لیے اسے دوسرا دماغ قرار دیا گیا ہے۔ظام ہضم اور اخراج میں مدد گار اس نظام کی موجودگی کا پتا چلانے کو سائنس دان غذائی نالی سے جڑی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اس تحقیق کے بعد فلندر یونیورسٹی اور واشنگٹن یونیورسٹی اشتراکی طور پر غذائی نالی کی بیماریوں کے علاج کے لیے Optogenetics Techniques کے بجائے دوسرے طریقہ علاج پر تحقیق کر رہے ہیں۔

Check Also

walnut Health Tips

اخروٹ کھائیں اوراپنا وزن کم کریں

بوسٹن: اخروٹ قدرتی نعمت ہے اوراومیگا تھری اینٹٰی آکسیڈنٹ کی بدولت دل و دماغ کے …

جواب دیں